ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / سکھانندا شیٹی مرڈر کیس کے تمام ملزمین عدالت سے بری۔ ایڈوکیٹ نوشاد قاسمجی مرحوم نے ابتدا میں کی تھی پیروی

سکھانندا شیٹی مرڈر کیس کے تمام ملزمین عدالت سے بری۔ ایڈوکیٹ نوشاد قاسمجی مرحوم نے ابتدا میں کی تھی پیروی

Thu, 29 Mar 2018 12:31:41    S.O. News Service

منگلورو 29؍مارچ (ایس او نیوز) سنگھ پریوار کے ایک لیڈر سکھا نندا شیٹی کے قتل کی سماعت کررہے چھٹے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنس کورٹ نے ملزمین کے خلاف ٹھوس ثبوت فراہم کرنے میں استغاثہ کو پوری طرح ناکام قرار دیتے ہوئے 17 ملزمین کوقتل اور قتل کی سازش کے تمام الزامات سے بری کردیاہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ دسمبر 2006کومولکی میں دن دہاڑے ہوئے اس سنسنی خیز قتل میں ملزمین کی پیروی ایڈوکیٹ پرشوتم پجاری کے دست راست مرحوم نوشاد قاسمجی کررہے تھے۔ اور نوشاد قاسمجی نے اپنے قریبی احباب کو یہ بات بتائی تھی کہ اس کیس سے دور رہنے کے لئے انہیں انڈر ورلڈ سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ اس کے کچھ عرصے بعد انہوں نے رشیدملباری کا کیس بھی اپنے ہاتھ میں لیا تھا تب معاملہ اور سنگین ہوگیا جس کے بعد ایڈوکیٹ نوشاد قاسمجی کو ان کے اپنے اپارٹمنٹ کے بیس مینٹ میں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔2006سے اب تک یہ کیس پرایڈوکیٹ پرشوتم پجاری (جو اب اس دنیا میں نہیں رہے) کی فرم سے وابستہ وکلاء دیکھ رہے تھے، ایڈوکیٹ بی نارائنا کی قیادت میں اس کیس کو سنبھالنے والی ٹیم میں نوشاد کے بھائی ایڈوکیٹ سمیر قاسمجی بھی شامل تھے۔

سکھانندا شیٹی مرڈر کیس پر پوری ریاست میں سنگھ پریوار نے اشتعال اور احتجاج کا ماحول پیدا کردیا تھا۔ اس کیس میں پولیس نے جملہ 23افراد کو ملزم بنایا تھا۔ جن میں سے دو ملزمین اب تک فراربتائے جاتے ہیں۔ملزم موُلکی رفیق پر الزام تھا کہ سکھانندا شیٹی کی سپاری کا پیسہ اس نے فراہم کیاتھا۔ اسے ریلوے اسٹیشن کے پاس قتل کردیا گیا تھاجبکہ بلیٹ سدھیر عرف عتیق کو پولیسانکائونٹر میں مار گرایا گیا تھا۔ایڈوکیٹ نوشاد کاکہنا تھا کہ مولکی رفیق کو درپردہ پولیس کے ذریعے مارگرانے کی تھیوری کو وہ عدالت میں ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور اس زاویے سے پولیس کے کچھ اعلیٰ افسران کی نظر میں وہ کھٹکنے لگے ہیں۔اس کے علاوہ گرفتار ملزمین میں مدّور یوسف عرف ایسوبوکو جیل کے اندر حریف گینگ کے گرگوں نے مارڈالاجبکہ اکبر کبیر کو اس قتل کا کلیدی ملزم قراردیا گیا تھا اور اسے گروپور کے قریب قتل کردیا گیا۔ اور اب عدالت نے نواز، نوشاد، محمد رفیق،شاکر ، محمد عزیز، عبدالقادر علی ، محمد اشرف،پی کے ایوب، فاطمہ زہرہ، سلیم قلندر، رحمت قلندر،عزیز عرف یوروپین عزیز،نظام الدین ، محمد عرف سادا محمد،افروز اور ناصر نامی بقیہ 17ملزمین کو بری کردیا ہے۔


Share: